2021 Latest 2 Line Short Sad Poetry in Urdu

2021 Latest 2 Line Short Sad Poetry in Urdu

Here is so depressing to have you here on this post as you are in the depression and sadness of a liked person who is no further with you and hence you are seeming to see some 2021 Latest 2 Line Short Sad Urdu Poetry or share with another person who wants it to make his/her disorder quiet down or you can more get this Poetry published and share with people for affection. Also, Shayari in 2 lines about the death of a loved one can treat anyhow and that is the cause I’m sharing my collection of 2 Line Short Poetry In Urdu with Y’all in quiet style.

Sad 2 Line Urdu Poetry

لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

یاد آئی ہے تو پھر ٹوٹ کے یاد آئی ہے
کوئی گزری ہوئی منزل کوئی بھولی ہوئی دوست

دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا
جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا

2021 Latest Urdu Ghazal

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہ
وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ نئے گلے وہ شکایتیں وہ مزے مزے کی حکایتیں
وہ ہر ایک بات پہ روٹھنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی بیٹھے سب میں جو روبرو تو اشارتوں ہی سے گفتگو
وہ بیان شوق کا برملا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہوئے اتفاق سے گر بہم تو وفا جتانے کو دم بہ دم
گلۂ ملامت اقربا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کوئی بات ایسی اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بری لگی
تو بیاں سے پہلے ہی بھولنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
سنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اک آپ نے وعدہ تھا
سو نباہنے کا تو ذکر کیا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مرے دل سے صاف اتر گئی
تو کہا کہ جانے مری بلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ بگڑنا وصل کی رات کا وہ نہ ماننا کسی بات کا
وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
جسے آپ گنتے تھے آشنا جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنؔ مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

2021 Fresh Urdu Long Ghazal

آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا

آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گا
اپنی زلفوں کو سنوارو گے تو یاد آؤں گا
رنگ کیسا ہو یہ سوچو گے تو یاد آؤں گا
جب نیا سوٹ خریدو گے تو یاد آؤں گا
بھول جانا مجھے آسان نہیں ہے اتنا
جب مجھے بھولنا چاہو گے تو یاد آؤں گا
دھیان جائے گا بہرحال مری ہی جانب
تم جو پوجا میں بھی بیٹھو گے تو یاد آؤں گا
ایک دن بھیگے تھے برسات میں ہم تم دونوں
اب جو برسات میں بھیگو گے تو یاد آؤں گا
چاندنی رات میں پھولوں کی سہانی رت میں
جب کبھی سیر کو نکلو گے تو یاد آؤں گا
جن میں مل جاتے تھے ہم تم کبھی آتے جاتے
جب بھی ان گلیوں سے گزرو گے تو یاد آؤں گا
یاد آؤں گا اداسی کی جو رت آئے گی
جب کوئی جشن مناؤ گے تو یاد آؤں گا
شیلف میں رکھی ہوئی اپنی کتابوں میں سے
کوئی دیوان اٹھاؤ گے تو یاد آؤں گا
شمع کی لو پہ سر شام سلگتے جلتے
کسی پروانے کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
جب کسی پھول پہ غش ہوتی ہوئی بلبل کو
صحن گلزار میں دیکھو گے تو یاد آؤں گا

Leave a Comment